رکشہ چلا کر گھر کی کفالت کرنے والی باہمت نور نے مثال قائم کردی

کہتے ہیں مشکلات اور آزمائش تو ہماری زندگیوں کا حصہ ہیں، انسان کو محض حوصلہ پیدا کرنا ہوتا ہے، ایک بار حوصلہ آجائے تو پھر کتنی ہی بڑی مشکل ہو اور کتنی ہی بڑی پریشانی ہو، وہ انسان کو پھر روک نہیں سکتی ہے اور نہ ہی اس کے ارادوں کو کمزور کرسکتا ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی خاتون رکشہ ڈرائیور نور کی ہے، جو عمر میں تو ابھی بہت چھوٹی ہے لیکن اگر اس کے عزم اور حوصلے کی بات کی جائے تو پھر اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

نور جو ایک معصوم سی بچی ہے، جس نے ابھی تو شاید اسکول جانا تھا، زندگی میں نئے نئے خوبصورت خواب دیکھنے تھے لیکن حالات کی سنگینی نے اسے اپنے تمام خوابوں کو روکنے پر مجبور اس وقت کردیا جب اس نے اپنے سر سے باپ کے سائے کو رخصت ہوتے ہوئے دیکھا۔

باپ کے سائے کے رخصت ہوتے ہی گویا نور اور اس کے اہلخانہ کی زندگیوں میں مشکلات کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو، ایک جانب باپ کی اچانک موت کا صدمہ تو دوسری جانب زندگیوں میں اچانک پریشانیوں کا آجانا، اس نے ایک وقت کے لئے نور اور اس کے اہلخانہ کو ذہنی تناؤ میں تو مبتلا کیا لیکن وہیں نور کی زندگی میں اتنا حوصلا بلند کردیا کہ وہ ہر مشکل سے مشکل چیز کا سامنے کرنے کے لئے تیار ہوگئی۔

نور کے والد ایک چن چی رکشہ ڈرائیور تھے، جو روز محنت کرتے اور روز کماتے تھے، گزر بسر اچھا چل رہا تھا لیکن پھر اچانک نور کے والد انتقال کرگئے، اس دوران گھر کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا، باپ کے بچھڑنے کا غم ساتھ ہی گزر بسر کے لئے بھی ایک فکر مندی تھی، گھر بھی کرائے کا تھا، بس پھر کیا نور نے ایک دن اپنی زندگی کا بہت بڑا فیصلہ کیا، اس نے اپنی جاری تعلیم کو کچھ وقت کے لئے روک دیا اور اپنے والد کے چن چی رکشہ کو چلانے کو فیصلہ کیا کیونکہ نور گھر میں بڑی تھی، لہذا اس نے گھر میں باپ کے بعد ایک بڑے بھائی کا کردار نبھایا اور گھر کی کفالت ذمہ داری کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ تاکہ اس کی دونوں چھوٹی بہنوں کی ناصرف اچھی پرورش ہوسکے بلکہ انھیں چھوٹی عمر میں گھر سے کام کرنے کے لئے بھی باہر نہ نکلنا پڑے۔

اس دوران نور کی والدہ بھی نور کا کافی ہاتھ بٹا رہیں ہیں۔ وہ روزانہ شاپرز یعنی تھیلیاں فروخت کرتی ہیں تاکہ گھر کی آمدنی میں کچھ اضافہ ہوسکے تاکہ دو وقت کی روٹی اور سر پر چھت ممکن رہے۔

یہ کم عمر اور ہمت والی نور کے لئے بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ انسان کمزور اس وقت تک جب تک وہ کوشش نہیں کرتا، نور نے ثابت کردیا ہے کہ زندگی کا اصل نام ہی کوشش اور ہمت ہے کیونکہ اس کے بعد پھر آپ کا کوئی راستہ روک نہیں سکتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ نور کو اللہ تعالی زندگی کی ہر مشکل اور پریشانی میں سرخرو کرے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago