معذوری اکثر انسان سے اس کے خواب چھین لیتی ہے لیکن ایک پاؤں سے معذور علی حسن نے یہ ثابت کر دیا کہ معذوری کوئی مجبوری نہیں ہوتی اگر ہمت، حوصلہ اور ارادے بلند ہوں تو زندگی کو بامقصد بنایا جاسکتا ہے۔ کراچی کی ایک شاہراہ پر ٹائر پنکچر کا کام کرنے والا علی حسن ایک پاؤں میں پولیو کی وجہ سے چل نہیں سکتا لیکن اسٹک کی مدد سے کھڑا ہوکر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا پنکچر لگاتا ہے۔
علی حسن کا تعلق خانیوال سے ہے، ایک سال کی عمر میں پولیو سے کمر توڑ بخار ہوا ، جس سے اس کے جسم کا نچلا دھڑ کمر اور پاؤں شدید متاثر ہوئے، کافی علاج معالجے ہوا لیکن اس بخار کی شدت سے وہ ایک ٹانگ سے معذور ہوگیا۔ بچپن سے نوجوانی میں قدم رکھا تو ایک ٹانگ سے معذوری پر خاندان والے اس کے والدین کو کہتے تھے کہ یہ معذور ہے کچھ نہیں کرسکتا ، بھیک مانگے گا۔ لیکن علی نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے محنت کرنے کی ٹھانی ، پہلے گدھا گاڑی چلائی اور بھی کئی چھوٹے موٹے کام کیے لیکن زیادہ پیسے نہیں ملے۔
پھر علی نے گاڑیوں میں پنکچر لگانے کا کام سیکھنے کا ارادہ کیا ، پہلی بار جب کام سیکھنے استاد کے پاس گیاتو اس نے کہا کہ تم چل نہیں سکتے کام کیسے کروگے؟ لیکن وہ اپنی ہمت سے ایک ہفتے میں ٹائر پنکچر کا مکمل کام سیکھ گیا جس پر استاد بھی حیران ہوا۔ اپنی کمائی ہوئی پہلی تنخواہ جب اس نے اپنے والد کے ہاتھ پر رکھی تو ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے کہ ان کے معذور بیٹے نے بھیک نہیں مانگی بلکہ محنت سے پیسے کمائے۔
باہمت علی حسن پچھلے 14 سال سے گاڑیوں کے ٹائروں میں پنکچر لگانے کا کام کر رہے ہیں اور باعزت روزگار سے حق حلال کی روزی کما رہے ہیں۔ علی حسن شادی شدہ ہیں اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے، شادی کے لئے ان کی بیوی نے خود انہیں منتخب کیا وہ خود تو ان پڑھ ہیں لیکن ان کی بیوی نے انٹر کیا ہوا ہے۔ معذور ہونے کے باوجود محنت کرنے والے علی حسن کی یہی خوبی ان کی بیوی کو بھاگئی اور اس طرح ان کی شادی ہوگئی۔
پولیو سے متاثر علی حسن کے مطابق اسے کام کے دوران مشکل تو پیش آتی ہے لیکن وہ اپنے حوصلے سے ہر مشکل کا مقابلہ کرلیتے ہیں۔ ایک ٹانگ سے معذوری کے باوجود وہ عام لوگوں کی طرح مہارت سے موٹر سائیکل بھی چلاتے ہیں اور وہ خانیوال سے کراچی اپنی موٹر سائیکل پر ہی آئے ہیں۔
باہمت علی حسن واقعی سب لوگوں کے لئے مثال ہے، اس کا حوصلہ عام لوگوں سے کئی گنا بلند ہے، اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ معذور ہونا گناہ نہیں اور نہ ہی معذوری کوئی مجبوری ہے لیکن اپنی معذوری دیکھا کر مجبور بننا غلط ہے، وہ لوگ جو دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلتے ہیں، اپنے ضمیر کو زندہ کریں اور حق حلال کی روزی کمائیں۔
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ہاتھ سے معذور باہمت فوڈ ڈلیوری رائیڈر محمد علی کی کہانی بھی کافی وائرل ہوئی ، جنہوں نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بنایا۔ فوڈ پانڈا کے یہ رائیڈر ایک ہاتھ سے معذور ہیں اور اسٹیک کی مدد سے چلتے ہیں لیکن اپنی نوکری میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں برتتے اور اپنی مخصوص موٹر سائیکل پر بروقت لوگوں کو گھروں پر کھانا فراہم کرتے ہیں۔
Story Courtesy: Aaro
کراچی،14 اپریل 2025: پاکستان میں نفسیاتی تجزیاتی سوچ کو فروغ دینے کی ایک پرعزم کوشش…
سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کمپنی نے رمضان المبارک میں گھریلو صارفین کیلیے گیس کی لوڈشیڈنگ…
کراچی سمیت سندھ بھر میں اس سال نویں اور دسویں جماعت کا شیڈول تبدیل کر…
فروری سال کا وہ مہینہ ہے جو محض 28 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے اور…
پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے چیمپئنز ٹرافی کے اگلے راؤنڈ تک جانے کا سفر مشکل ہوچکا…