احسن اقبال کیخلاف ریسٹورنٹ میں خواتین کی نعرے بازی، ویڈیو وائرل

پنجاب کے شہر بھیرہ میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے ساتھ ریسٹورنٹ میں خاتون کی بدتمیزی کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ویڈیو میں احسن اقبال کو ایک ریسٹورینٹ میں دیکھ کر وہاں موجود خواتین نے نعرہ بازی شروع کردی تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ احسن اقبال ریسٹورنٹ کے کاؤنٹر پر کھڑے ہیں اور انہیں دیکھ کر بظاہر پہلے ایک خاندان کی خواتین نے ان کے خلاف چور، چور کے نعرے لگانا شروع کئے اور بعد ازاں اس نعرے بازی میں دیگر افراد بھی شامل ہوگئے۔ 

مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے پر احسن اقبال نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کی ہے، جس میں کہا کہ ‘بھیرہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک فیملی سے مڈ بھیڑ ہوئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ فیملی بظاہر خود کو ایلیٹ سمجھتی ہے مگر انہوں نے مکالمہ کرنے کی بجائے جاہلوں کی طرح نعرہ بازی شروع کردی’۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ جب یہ نعرہ بازی سے باز نہ آئے تو لوگوں نے بھی نعرے لگادئیے “گوگی پیرنی کا حساب دو”۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ ‘یہ وہ چہرے ہیں جن کی تربیت عمران نیازی نے ہٹلر کی پلے بک سے کی ہے۔عام زندگی میں لوگ انہیں پڑھا لکھاسمجھتے ہونگے لیکن تہذیب محض تعلیم سے نہیں آتی۔والدین کی تربیت، صحبت اور زندگی میں انسان کسے فالو کرتا ہے یہ عناصر انسان کو خواہ وہ کتنا تعلیم یافتہ ہو اسے گنوار بھی بنا سکتے ہیں’۔

وفاقی وزیر نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ‘میں ان بہنوں اور بھائیوں کا دلی شکریہ ادا کر کرتا ہوں جنہوں نے بھیرہ میں PTI کی ہمدرد فیملی کی ہلڑبازی کی شدید مذمت کی ہے اور مجھ سے اظہار یکجہتی کیا۔ہلڑبازی نے خود ان کو ایکسپوز کیا۔گولی کھانے والے ہلڑبازی سے نہیں گھبراتے۔ دکھ اس بات کا ہے عمران اپنے فالوورز کو کس طرف لے جارہا ہے’۔

اس واقعے پر لیگی رہنما حنا پرویز بٹ نے شدید ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے واقعے کی ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ‘ تربیت چیک کریں، اپنے سے عمر میں بڑے شخص کے ساتھ کیسے پیش آرہے ہیں، اس رویے پر لوگ انہیں سراہیں گے نہیں‘۔

اس کے ساتھ ساتھ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور اسے سیاست میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا مظہر قرار دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھی احسن اقبال کی ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی جس میں انہوں نے ملک کی معاشی صورتحال کے پیشِ نظر عوام کو کم چائے پینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ʼقوم چائے کے ایک یا دو کپ کم کریں کیونکہ ہم جو چائے درآمد کرتے ہیں وہ بھی ادھار لے کر کرتے ہیں، اگر تیل مہنگا ہوتا ہے تو ہمیں اس کے استعمال کو کم کرنا ہوگا تاکہ ملک پر کم سے کم بوجھ پڑے‘۔سوشل میڈیا صارفین کو وفاقی وزیر کا یہ مشورہ پسند نہ آیا اور انہوں نے اس پر خوب تبصرے کیے۔

جس پر جواباً وفاقی وزیر نے شکوہ کیا کہ میں نے چائے کم پینے کا کہا تو اس کا مذاق بنالیا گیا حالانکہ سنجیدہ چیزوں پر مذاق نہیں ہونا چاہیے۔آج پاکستان جس اختلاف کا شکار ہے ایسے میں کوئی ترقی نہیں کرسکتا۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago