بھارت میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے لیکر اب تک مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر جو ہولناک ظلم ہوئے اس سے کون نہیں واقف ہے۔ ہندوتوا سوچ کے حامل وزیراعظم نے اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے خلاف جس نفرت کو پھیلایا اس کے نتائج پھر بعد میں مسلمانوں کی آبادیوں میں حملے کی صورت میں سامنے آیا، روڈ پر چلتے ہوئے مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے پر بےدردی کے ساتھ قتل کیا جانا معمول بن گیا۔
اس ہی سلسلے کا ایک اور واقعہ رواں ہفتے بھارتی ریاست بہار کے علاقے ویشالی میں پیش آیا جہاں اب کی بار انتہاء پسندوں نے بزدلی کی ساری حدیں پار کردیں اور نشانہ بنایا ایک معصوم نوجوان لڑکی کو، جس نے ہندو لڑکے سے شادی سے انکار کیا، تو اسے زندہ جلا دیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ کچھ یوں ہے کہ ستیش نامی ایک ہندو نوجوان جو کافی دن سے ایک 20 سالہ مسلمان نوجوان لڑکی گل ناز کو تنگ کررہا تھا، اس دوران ستیش نے گل ناز سے شادی کی خواہش ظاہر کی، جسے گل ناز نے منع کردیا، لہذا چند دن بعد ستیش نے اپنے والد اور ایک دوست کے ساتھ مل کر گل ناز کو زندہ جلا دیا۔
تفصیلات کے مطابق آگ لگ جانے سے گل ناز انتہائی بری طرح متاثر ہوئی، جسے زخمی حالت میں فوری طور پر طبی امداد کے لئے قریبی اسپتال منتقل کیا۔ اس دوران ہسپتال لے جاتے ہوئے گلناز نے ویڈیو پیغام میں آگ لگانے کا الزام ستیش نامی نوجوان پر عائد کرتے ہوئے بتایا کہ ستیش بار بار شادی کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا اور ہر بار میں نے انکار کردیا تھا۔ تاہم اس روز وہ کچرا پھینکنے سے دروازے سے باہر آئی تو ستیش نے اپنے والد اور ایک اور شخص کی مدد سے مجھے گھسیٹ کر لائے اور پٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔ جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
جبکہ ڈاکٹروں نے اس واقعے میں گل ناز کے 60 فیصد جسم کے جل جانے کی تصدیق کی۔ بعدازاں دو ہفتوں تک گل ناز اسپتال میں زیر علاج رہی البتہ گل ناز رواں ہفتے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئی۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت گل ناز کے اہلخانہ نے پولیس کی جانب سے تعاون نہ کرنے اور انصاف کے حصول کے لئے بیٹی کی میت کے ہمراہ ایک سڑک پر دھرنا دیا ہوا پے۔
گل ناز کے اہلخانہ کے مطابق اس واقعے کو دو ہفتے سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے۔ گل ناز نے ویڈیو بیان میں مجرمان کے نام بتائیں تاہم پولیس کی جانب سے مجرمان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ مجرمان ابھی تک آزاد گھوم رہے ہیں۔ پولیس مجرمان کا ساتھ دے رہی ہے۔ لہذا وہ انصاف چاہتے ہیں کہ مجرمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
اس دوران بھارت میں کئی فلاحی اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے گل ناز کے قتل کے خلاف آواز بلند کی جارہی ہے اور پُرزور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ بااثر مجرمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے سزا دی جائے۔
کراچی،14 اپریل 2025: پاکستان میں نفسیاتی تجزیاتی سوچ کو فروغ دینے کی ایک پرعزم کوشش…
سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کمپنی نے رمضان المبارک میں گھریلو صارفین کیلیے گیس کی لوڈشیڈنگ…
کراچی سمیت سندھ بھر میں اس سال نویں اور دسویں جماعت کا شیڈول تبدیل کر…
فروری سال کا وہ مہینہ ہے جو محض 28 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے اور…
پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے چیمپئنز ٹرافی کے اگلے راؤنڈ تک جانے کا سفر مشکل ہوچکا…