بھارتی فورسز کا ایک اور ڈرامہ لیکن نتیجہ وہ ہی پرانا

پڑوسی ملک بھارت میں اگر پاکستان کی سرحد سے کوئی بھولا بھٹکا کبوتر بھی اڑتا ہوا چلا جائے تو اسے بھی بھارتی میڈیا جاسوس کے طور پر دیکھتا ہے۔ لیکن اس بار کسی کبوتر نے نہیں بلکہ ایک غبارے نے لینڈنگ کر لی جو بھارتی پولیس اور میڈیا کے لیے خوف کی علامت بن گیا کیونکہ اس پر پاکستان کی قومی ائیر لائن کا نام لکھا ہوا تھا۔

بھارتی خبر رساں ادارے “اے این آئی “کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیے گئے ٹوئٹ کے مطابق مقبوضہ جموں کے ضلع کٹھوا کے ہیرا نگر سیکٹر کے سوترا چک گاؤں میں ایک طیارے کی شکل کا غبارہ گرا جس پر پی آئی اے لکھا ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر پی آئی اے کے نام ، لوگو اور رنگوں والے اس غبارےکی نشاندہی گاؤں کے افراد نے کی اور پولیس کو اس سے آگاہ کیا، جس پر انتظامیہ نے اس غبارے کو قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔

Image Source: Twitter

یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ اس سے قبل بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان اس قسم کے واقعات پیش آچکے ہیں جس میں جاسوس کبوتر کو گرفتار کیا جانا بھی شامل ہے۔ تاہم پی آئی اے کا نام لکھے اس غبارے کو قبضے میں لینے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی انتظامیہ پر دلچسپ و مزاحیہ تبصرے کیے جارہے ہیں۔

اس حوالے سے پاکستانی کامیڈین گلوکار علی گل پیر نے پی آئی اے کے غبارے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے “فری دی بلون” (غبارے کو آزاد کرو) کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔

ثنا جمال نے ٹوئٹ کی کہ پی آئی اے کے لوگو کے اس غبارے کی گرا کر بھارت نے آج ایک نئی کامیابی حاصل کی۔

جب کہ ڈینس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ پوسٹ کی گئی کہ بھارتی مسلح افواج پائن کے درختوں پر بمباری، جاسوس کبوتروں کو گرفتار کرے، لیفٹیننٹ کرنل دھونی کو ٹائٹل دینے اور غبارے گرانے میں ماہر ہیں۔

سوشل میڈیا پر غبارے کی اس تصویر پر جہاں چند منٹوں میں ہزاروں لائکس، ٹویٹس ہوئے وہیں انڈین اور پاکستانی ٹوئٹر صارفین کو ایک دوسرے کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار کا موقع مل گیا اور انہوں نے گفتگو کے دوران طنز، تنقید، میمز اور دعوے و دلیل کے سبھی انداز بھی آزمائے گئے۔

درحقیقت ہندوستانی حکومت اور سیکیورٹی فورسز میں پاکستان مخالف پروپیگینڈا اس قدر سرائیت کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی چیز جس کا تعلق پاکستان سے ہو خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اس سے پہلے مئی 2015 میں ایک “جاسوس” کبوتر کو گرفتار کیا گیا تھا۔جس پر میڈیا پر کافی تبصرے بھی کئے گئے تھے ہوسکتا ہے اس بار بھی اس “غبارے” کے معاملے پر انڈیا میڈیا پر گرما گرم بحث ہو جیسا کہ جاسوس کبوتر کے پر ہوئی تھی۔

بہرحال یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ہندوستانیوں کو پاکستانی غبارے ملے ہیں ، کچھ سال قبل ہی سکیورٹی ایجنسیوں نے تفتیش کے لئے کچھ پاکستانی غبارے تحویل میں لئے تھے۔ پھر پٹھان کوٹ میں ایک کسان کوقائداعظم کی تصویر چھپے ہوئےغبارے ملے جن پر “مجھے پاکستان سے پیار ہے” بھی لکھا ہوا تھا ،اس معاملے پر بھی بھارتی سکیورٹی فورسز نے چھان بین کی تھی۔

خیال رہے کہ بھارتی میڈیا پاکستان مخالف ہے اور پاکستان کے حوالے سےسنسنی پھیلنے میں پیش پیش رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا پاکستان سے متعلق کسی بھی معلومات یا معمولی نوعیت کی چیز کو پکڑ کر سنسنی خیز خبر میں بدل دیتا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

4 weeks ago