مسلمانوں کا ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فلم محمد پر پابندی لگانے کا مطالبہ

دنیا بھر کے مسلمانوں کا فلم “محمد دی میسنجر آف گورڈ” پر پابندی کا مطالبہ پابندی کا بڑا مطالبہ سامنے آگیا ہے۔ کئی معروف عالم دین کے مطابق اس فلم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی متعلق غلط واقعات اور ایسی تعلیمات کو دیکھا گیا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے قطعی منسلک نہیں ہیں۔ تاہم یہ فلم دنیا بھر میں سال 2015 میں ریلیز کی گئی تھی، جس پر اب ٹوئیٹر پر پابندی کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔

سال 2015 میں ایرانی سینما تاریخ کی سب سے بڑی اور مہنگے بجٹ پر بنائی گئی فلم “محمد دی میسنجر آف گورڈ کو ایرانی ہدایتکار ماجد مجیدی نے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ اس فلم میں کمبوزیا پارٹوی نے ماجدی مجیدی کے ساتھ تحریر کی تھی۔

یہ فلم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بنائی گئی تھی، جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہونے والے واقعات دیکھائے گئے تھے تاہم فلم کے ریلیز ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی اس فلم اور اس فلم کے ڈائریکٹرز کے خلاف فتوے سامنے آگئے تھے۔

جبکہ اس فلم کے ریلیز ہونے سے قبل فلم کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، دنیا بھر سے مسلمانوں کے بڑے بڑے اور نامور اداروں نے اس فلم پر اپنے تحفظات کا اظہار فلم کے ریلیز ہونے سے قبل ہی کردیا تھا۔ ان اداروں میں ایک نام مصر کی مشہور و معروف آل اظہر یونیورسٹی بھی شامل ہے جس نے اس فلم کے ریلیز ہونے سے قبل ایرانی حکام سے درخواست کی تھی کہ وہ اس فلم کو ریلیز ہونے سے روکیں۔ جامعہ آل اظہر نے اس فلم پر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی جانب سے ایک بڑا مرتبہ عطا کیا ہے، ان کی ایک حرمت ہے البتہ اس فلم سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت میں کمی آرہی ہے۔

ساتھ ہی اس فلم کو سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز ابنِ عبداللہ الشیخ نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس فلم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تصویر پیش نہیں کی گئی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے لئے جو کردار ادا کیا وہ بھی صحیح طریقے سے پیش نہیں ہوا۔ یہ فلم ناصرف ان کا مذاق اڑانے کے مترادف بلکہ ان کے کردار کو بھی نعوز باللہ نیچے کررہا ہے۔

دوسری جانب سعودی مسلم ورلڈ لیگ (ایم ڈبلیو ایل) نے بھی اس فلم کی مذمت کی تھی اور اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک اور ان کا کردار دیکھانے پر خوب تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

اس سلسلے میں بریلوی رضا اکیڈمی نے بھی اس فلم کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اس فلم پابندی عائد کی جائے، ساتھ ہی بریلوی رضا اکیڈمی نے فلم کے ساتھ فلم کے ہدایت کار ماجد مجیدی اور رائٹر اے آر رحمان کے خلاف بھی فتوی جاری کیا تھا۔

اس ہی حوالے سے ایک بار پھر یہ مسئلہ اب زور آٹھا رہا ہے، ٹوئیٹر پر لوگوں کی جانب مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ اس فلم پر پابندی عائد کی جائے اور اس فلم کو مزید چلنے سے روکا جائے۔

یاد رہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور حرمت ہر مسلمان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے، ان کی کسی بھی قسم کی بےحرمتی کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ دنیا کا ہر مسلمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی خاطر اپنی جان و مال سمیت ہر چیز قربان کرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کوہارٹ اٹیککے علاج پر مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ACC) کی جانب سے مسلسل…

1 week ago

ہوی مائلز کی پاکستان میں توسیع، ہری سن انرجی کو ٹائر-1 ڈسٹری بیوٹر مقرر کر دیا گیا

پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش…

2 weeks ago

کارانداز کی معاونت سے کسان گودام چھوٹے کاشتکاروں کو ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات اور جدید ذخیرہ سازی کے حل فراہم کرے گا

 کارانداز پاکستان نے حاجی سنز گروپ کے کاروباری منصوبے کسان گودام کے ساتھ شراکت داری…

3 weeks ago

اے کے یو-آئی ای ڈی اور حکومتِ سندھ کے درمیان جامع تعلیم کے فروغ کے لیے تاریخی شراکت داری قائم

پانچ سالہ اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (SEN) یونٹ قائم کیا جائے…

4 weeks ago

جی ایس ایم اے کا ڈیجیٹل پاکستان 2030 وزارتی راؤنڈ ٹیبل، قومی ڈیجیٹل ایجنڈے پر اتفاقِ رائے

پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں…

1 month ago