کورونا میں مبتلا ماہر نفسیات نے اکلوتی بیٹی کو قتل کرکے خودکشی کرلی

ملتان میں کورونا میں مبتلا معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر نے بیٹی کو گولی مار کے اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق افسوسناک واقعہ صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے علاقے جسٹس حمید کالونی میں پیش آیا ہے۔ ڈاکٹر کی جانب سے بیٹی کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرنے کا مقدمہ  ڈاکٹر اظہر حسین کی بیوہ بشریٰ بی بی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

بشریٰ بی بی کی جانب سے پولیس کو درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کے شوہر ڈاکٹر اظہر حسین ایک ماہر نفسیات تھے اور کورونا میں مبتلا تھے۔وہ اس بیماری کو لے کر شدید ڈپریشن کا شکار تھے اور چار ماہ سےان کا نفسیاتی علاج بھی چل رہا تھا۔

وقوعہ کے دن مقتولہ بیٹی علیزہ حیدر دوسرے کمرے میں ایف سی پی ایس کے ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی کہ اچانک گولی چلنے کی آواز آئی، جب انہوں نے کمرے میں جا کر دیکھا تو جوان بیٹی خون میں لت پت پڑی تھی، اسے نشتر اسپتال لے کر گئے لیکن اس کی سانسیں رک چکی تھیں۔ مقتولہ ڈاکٹر علیزہ حیدر تین بچوں کی ماں تھی۔

بیوہ بشری بی بی کی جانب سے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بعدازاں میرے شوہر نے خود کو کمرے میں بند کرکے اندر سے دروازہ لاک کرلیا اور پھر خود کو بھی گولی مار لی، دروازہ توڑ کر دیکھا تو سب کچھ ختم ہوچکا تھا۔

ملتان پولیس نے بیوہ بشریٰ بی بی کی مدعیت میں قتل اور خودکشی کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔


اس واقعے کے حوالے سے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہر نفسیات ڈاکٹر اظہر حسین اور ان کی بیٹی ڈاکٹر علیزہ حیدر کے درمیان فیملی جائیداد کے معاملے پر تنازع چل رہا تھا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ڈاکٹر نے طیش میں آکر گھر میں پہلے اپنی بیٹی کو گولی ماری، لیکن جب ایمبولینس میں ان کو بیٹی کی موت کی اطلاع ملی تو انہوں نے شدید صدمے میں خود کو بھی گولی مار کر اپنی زندگی ختم کرلی۔

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ماہر نفسیات جو اپنی کونسلنگ کے ذریعے دوسروں میں جینے کی اُمنگ پیدا کرتے ہیں اور خودکشی جیسے انتہائی اقدام سے روکتے ہیں تو پھر ایسا کیا ہوا کہ ڈاکٹر اظہر حسین اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئے؟ ایسی کیا وجوہات تھیں جو انہوں نے اپنی اکلوتی بیٹی کی جان لے لی؟ ان تمام سوالات اور اس معاملے کے اصل حقائق جاننے کے لئے پولیس اس کیس کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

ہمنوا کا ساتواں گانا ’’کوئی اچھی خبر‘‘ ریلیز، انتشار کے درمیان امید اور خود کلامی کی عکاسی

لاہور/ہنزہ (نمائندہ خصوصی) عالمی میوزک پلیٹ فارم ہمنوا نے اپنے پہلے سیزن کا ساتواں گیت…

6 days ago

ایس آئی یو ٹی میں عالمی یومِ فسٹیولا منایا گیا، زچگی سے جڑی قابلِ تدارک پیچیدگی سے آگاہی پر زور

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں عالمی یومِ آبسٹیٹرک…

2 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کی چھٹی پیشکش

’’لاسٹ اِن لو‘‘ (Lost in Love) جاری کردی، جو عشق، عقیدت اور اجتماعی سپردگی کے…

2 weeks ago

ICAP نے CFO کانفرنس 2026 – اسلام آباد ایڈیشن کا انعقاد کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے ICAP CFO کانفرنس 2026 کے اسلام…

3 weeks ago

قومی عجائب گھر پاکستان کی اپ گریڈیشن کیلئے مشترکہ کاوش، آغا خان یونیورسٹی کی مشاورتی نشستوں کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی (AKU) اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) نے قومی اور بین…

3 weeks ago

عالمی میوزک پلیٹ فارم Humnava نے اپنے پہلے سیزن کے تسلسل میں پانچواں گانا “سوے (Sway)” جاری کر دیا ہے

جو بچپن کی بے ساختہ خوشیوں، پہاڑی یادوں اور بے فکری کے احساس کو ایک…

3 weeks ago