نجی کالج کی طالبہ کا پرنسپل اور ایڈمنسٹریٹر پر اجتماعی زیادتی کا الزام

جنوبی پنجاب کے شہر مظفرگڑھ میں پیش آیا جنسی زیادتی کا ایک افسوسناک واقعہ، جہاں نجی پیرا میڈیکل کالج کے پرنسپل اور ایڈمنسٹریٹر مبینہ طور پر کالج میں زیر تعلیم طالبہ کو تین روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

تفصیلات کے مطابق مظفرگڑھ میں واقع نجی پیرا میڈیکل میں ایل ایچ ون کی طالبہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ کالج کے پرنسپل اور ایڈمنسٹریٹر نے انہیں 3 روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

ڈان نیوز کی شائع کردہ خبر کے مطابق متاثرہ لڑکی نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ وہ ایل ایچ وی کا تین سے چار ماہ کا کورس کر رہی ہے، جہاں اسے پرنسپل اکرام الحق نے 8 اپریل کو صبح 10 بجے اپنے آفس میں بلایا اور کہا کہ آپ پر 40 ہزار روپے کا جرمانہ ہوا ہے، جسے ختم کرانے کے لیے اسے عدالت جانا پڑے گا۔ چنانچہ انہوں نے مجھ سے ایک گاڑی میں چند کاغذات پر انگوٹے لگوائے اور پھر پرنسپل اکرام الحق اور ایڈمنسٹریٹر بابر انہیں نامعلوم مکان پر لے گئے، جہاں پھر انہیں تین دن تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

Image Source: Facebook

اس دوران متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ دونوں ملزمان کی جانب سے انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے اس بارے میں کسی کو بتایا تو وہ اسے جان سے مار دیں گے۔ دونوں ملزمان بلیک میلنگ کے باعث انہیں قانونی کارروائی سے روکتے رہے۔

تاہم اب متاثرہ خاتون کی جانب سے مظفر گڑھ میں واقع. تھانہ میر ہزار میں اس افسوسناک واقعے کی ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے، جس میں 5 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے تمام ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔ جبکہ پولس کی جانب سے متاثرہ خاتون کا میڈیکل بھی کرالیا گیا ہے۔

Image Source: Medium

واضح رہے پاکستان میں گذشتہ کچھ مہینوں سے جنسی تشدد اور زیادتی کے کیسسز میں ایک غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث ملک کی کافی بدنامی ہو رہی ہے۔ پہلے، موٹر وے عصمت دری کا معاملہ، ھر گھوٹکی میں 4 سالہ بچی سے زیادتی کا واقعہ پھر اب یہ اور ایسے کئی اور عصمت دری کے واقعات کا مسئلہ ملک میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے نومبر 2020 میں جنسی زیادتی کے جرائم میں ملوث مجرمان کی کیمیائی کاسٹنگ کرنے کے متعلق ایک قانون کی منظوری دی تھی ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ملک میں اتنی سخت قانون سازی ہوجانے کے باوجود جرائم کک شرح میں اضافہ ہونا، یقیناً ایک پریشان کن مسئلہ ہے۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل صوبہ پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں ایک جنسی زیادتی کا ہولناک واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ایک لڑکی بس کے خراب ہونے کے باعث سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر دوسری سواری کا انتظار کررہی تھی کہ دو نامعلوم افراد نے اسے لفٹ دینے کے بہانے پر گاڑی میں بیٹھا لیا، بعدازاں ملزمان لڑکی کو اغواء کرکے اسے ایک ڈیرے پر لے گئے جہاں لڑکی کو نشہ آور چیز پلانے کے بعد 6 ملزمان نے اسے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جس کے بعد لڑکی کو برہنہ حالت میں فصلوں کے پاس پھنک کر چلے گئے۔

Ahwaz Siddiqui

Recent Posts

محکمہ صحت سندھ، لمز اور آغا خان یونیورسٹی کا بنیادی صحت کے نظام تک ماں اور بچوں کی صحت کے لیے قومی مصنوعی ذہانت مرکز لانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط

عائشہ سلمان، گیٹس فاؤنڈیشن، پروگرام آفیسر؛ ڈاکٹر زہرا ہڈبھائے، آغا خان یونیورسٹی، ایسوسی ایٹ پروفیسر؛…

2 weeks ago

Coke Studio Nu.WAVکا نیا گانا ’رنگین‘ ریلیز

لاہور (نمائندہ خصوصی) Coke Studio Nu.WAV نے اپنے موسیقی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے…

3 weeks ago

2026 SIMPACT میں طبی تعلیم کے لیے سیمولیشن میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت حاصل

: آغا خان یونیورسٹی (AKU) کے سینٹر فار انوویشن اِن میڈیکل ایجوکیشن (CIME)، کراچی نے…

3 weeks ago

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV کا پہلا گانا ’دل‘ ریلیز، افیوسک (Afusic)اور زوہا وسیم کی آوازوں کا خوبصورت امتزاج

کوک اسٹوڈیو Nu.WAV نے اپنے سفر کا آغاز پہلے گانے ’دل‘ کی ریلیز سے کردیا،…

1 month ago

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ اور سٹی پاکستان نے سپلائر فنانسنگ اور سپلائی چین کی مضبوطی کے لیے شراکت داری کی

فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان لمیٹڈ (FCEPL) نے اپنے سپلائرز کے لیے سٹی پاکستان کے Citi®…

1 month ago