معروف نعت خواں جنید جمشید کو دنیا سے رخصت ہوئے 6 برس گزرگئے


0

جنید جمشید پاکستان کی وہ معروف شخصیت ہیں ، جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز گلوکاری سے تھا لیکن بعد ازاں مذہب کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کردی تھی ۔آج انہیں ہم سے بچھڑے 6 برس بیت گئے ہیں لیکن ان کی یادیں اور آواز آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔

سات دسمبر 2016ء وہ بدقسمت دن تھا کہ جب پرواز پی کے661 نے چترال سے اُڑان بھری لیکن منزل تک نہ پہنچ سکا اور حویلیاں کاک بٹولنی میں گر کر تباہ ہوگیا۔اس طیارہ حادثے نے ہردلعزیز شخصیت جنید جمشید کو ہمیشہ کے لیے اُن کے چاہنے والوں سے دور کردیا۔ حادثے میں ان کی اہلیہ سمیت 47 افراد نے زندگیاں گنوا دیں۔

Junaid Jamshed's Third Wife Files Lawsuit To Get Share In Inheritance
Image Source: File

دھیمے لب ولہجے کے مالک نامور نعت خواں جنید جمشید 3 ستمبر 1964ء کو کراچی میں پیدا ہوئے اور یہیں ان کی تدفین ہوئی انہوں نے اپنے میوزک کیرئیر کا آغاز بینڈ وائٹل سائنز سے کیا۔پہلے البم کی ریلیز نے ہی انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اور ان کے ملی نغمے ‘دل دل پاکستان‘ نے ریکارڈ قائم کیا۔

Junaid Jamshed's Third Wife Files Lawsuit To Get Share In Inheritance
Image Source: File

اس ہی سلسلے میں سال 1999ء میں ان کی دوسری سولو البم کے کئی گیت اُس دور کے سپر ہٹس میں شامل رہے۔انہوں نے گلوکاری کے کیریئر میں وہ شہرت اور مقبولیت حاصل کی، جو بہت ہی کم لوگوں کے نصیب میں آتی ہے۔تاہم 2002ء میں اپنی چوتھی اور آخری البم کے بعد جنید جمشید کا رحجان اسلامی تعیلمات کی جانب بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک نعت خواں کے طور پر ابھرتے نظر آئے،”الہٰی تیری چوکھٹ پر “، “محمد کا روزہ “ اور “میرا دل بدل دے مولا“ جیسے کلام نے مداحوں کو ان کا گرویدہ بنادیا۔ بلاشبہ دل دل پاکستان سے لیکر میرا دل بدل دے تک جنید جمشید نے جو گایا اور جو پڑھا وہ سننے والوں کے دل میں اتر گیا، آج بھی وہ اپنی دل سوز آواز کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

مزید برآں، تبلیغ اسلام اورنعت خوانی کے علاوہ جنید جمشید نے نجی چینل پر ماہ رمضان کی خصوصی ٹرانسمیشن میں میزبانی کے فرائض بھی انجام دے کر لوگوں کے دل جیت لئے۔بعد ازاں اسلام اور مذہبی تعلیمات کی طرف رجحان نے ان کی شخصیت کو بالکل ہی بدل ڈالا اور ان کی پہچان گلوکار سے بدل کر مبلغ اور نعت خواں کی ہوگئی۔وہ معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل سے متاثر تھے اور ان کے بےحد قریب تھے، جنید جمشید کی نمازِ جنازہ بھی مولانا طارق جمیل نے پڑھائی تھی۔

مزید جانئے: جنید جمشید کی تیسری اہلیہ کا وراثت میں حصیداری کیلئے مقدمہ درج

بطور گلوکار اور نعت خواں انہوں نے اپنی زندگی کا بھرپور عروج دیکھا، 2007ء میں ان کو 500 بااثرمسلم شخصیات میں شامل کیا گیا جبکہ 2014ء میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔


Like it? Share with your friends!

0

0 Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *